متحدہ عرب امارات غیر مسلم وراثت و وصیت قانون 2026: سول فیملی کورٹ، DIFC اور قانون کے انتخاب کی گائیڈ
متحدہ عرب امارات میں غیر مسلم تارکین وطن کیلئے وراثت، وصیت کے اندراج اور جائیداد کی تقسیم پر 2026 کی تفصیلی اور مستند قانونی گائیڈ۔ فیڈرل ڈکری لاء نمبر 41 سال 2022 (سول پرسنل اسٹیٹس)، بغیر وصیت وراثت کے اصول (50 فیصد بیوہ/شوہر کا حصہ اور بیٹوں بیٹیوں کا 1:1 برابر حصہ)، DIFC اور ابوظہبی سول کورٹ وصیت رجسٹری، بینک اکاؤنٹس کے انجماد اور آبائی ملک کے قانون کے نفاذ کی مکمل تفصیل۔
کل جائیداد کا آدھا حصہ براہ راست زندہ شریک حیات کو منتقل ہوتا ہے
سول لا کے تحت جنس کی بنیاد پر حصے میں کوئی تفریق نہیں
انگریزی کامن لا اور سول کورٹ کے تحت قانونی تحفظ
سالہا سال کے مقدمات کے بجائے چند ہفتوں میں عدالتی کارروائی
📑 فہرست مضامین
- 1. متحدہ عرب امارات میں غیر مسلموں کیلئے قانونی انقلاب: فیڈرل قانون نمبر 41 سال 2022
- 2. بغیر وصیت وراثت کے قوانین: 50% شریک حیات اور 1:1 بچوں میں برابری
- 3. وصیت کے باضابطہ ادارے: DIFC وصیت سینٹر بمقابلہ ابوظہبی سول کورٹ (ADJD)
- 4. آبائی ملک کے قانون کے اطلاق کا حق (Opt-Out Declarations)
- 5. بینک اکاؤنٹس کا انجماد، جوائنٹ اکاؤنٹس اور سینٹرل بینک ضوابط
- 6. موازنہ جدول: سول قانون، رجسٹرڈ وصیت اور روایتی شریعت
- 7. ایک کروڑ درہم کی جائیداد کی تقسیم کا تصویری ماڈل
- 8. یو اے ای میں وصیت کی رجسٹریشن اور نفاذ کے 6 مراحل
- 9. نابالغ بچوں کی قانونی سرپرستی اور عارضی سرپرستوں کا تقرر
- 10. اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) اور ماہرین کی قانونی ایڈوائزری
1. متحدہ عرب امارات میں غیر مسلموں کیلئے قانونی انقلاب: فیڈرل قانون نمبر 41 سال 2022
متحدہ عرب امارات میں غیر مسلم تارکین وطن کے خاندانی معاملات، ترکے کی تقسیم اور اثاثہ جات کے تحفظ میں تاریخی اصلاحات کی گئی ہیں۔ فیڈرل ڈکری لاء نمبر 41 سال 2022 (سول پرسنل اسٹیٹس فار نان مسلمز) کے تحت ریاست کی تمام ساتوں امارات میں ایک جدید، سیکولر اور بین الاقوامی معیار کے مطابق قانونی نظام قائم کیا گیا ہے۔
اس اصلاح سے قبل بغیر وصیت کے ترکے پر روایتی شریعت کے اصول لاگو ہوتے تھے۔ 2026 میں نیا قانون مرد و زن کی مکمل برابری، وصیت کی مکمل آزادی اور وراثت کے فوری حل کو یقینی بناتا ہے، چاہے وہ دبئی کے پرتعیش مکانات ہوں، ابوظہبی گلوبل مارکیٹ کے شیئرز ہوں یا مقامی بینکوں کے اکاؤنٹس۔
2. بغیر وصیت وراثت کے قوانین: 50% شریک حیات اور 1:1 بچوں میں برابری
اگر کوئی غیر مسلم رہائشی وصیت کے بغیر وفات پا جائے (Intestate)، تو قانون نمبر 41 سال 2022 کی دفعہ 11 کے تحت ترکہ مندرجہ ذیل طریقے سے خودکار طور پر تقسیم ہوتا ہے:
- زندہ شریک حیات کا حصہ: ترکے کا ٹھیک 50 فیصد (آدھا حصہ) براہ راست زندہ بیوی یا شوہر کو منتقل ہو جاتا ہے۔
- تمام بچوں میں برابری (1:1 تناسب): بقیہ 50 فیصد حصہ تمام زندہ بچوں میں برابر تقسیم ہوتا ہے، جس میں بیٹے اور بیٹی کے حصے میں کوئی فرق نہیں رکھا گیا (مرد کو دگنا حصہ دینے کا قانون ختم)۔
- بچوں کی عدم موجودگی میں تقسیم: اگر کوئی اولاد نہ ہو تو بقیہ 50 فیصد متوفی کے والدین کو برابر (25% باپ اور 25% ماں) یا زندہ والدین/بہن بھائیوں میں تقسیم ہوتا ہے۔
- ورثاء کی عدم موجودگی: اگر کوئی بھی وارث نہ ہو تو ترکہ سرکاری خزانے میں جمع ہوتا ہے۔
3. وصیت کے باضابطہ ادارے: DIFC وصیت سینٹر بمقابلہ ابوظہبی سول کورٹ (ADJD)
خودکار قانون کے باوجود اپنی مرضی کے مطابق جائیداد کی تقسیم، بیرونی ممالک کے اثاثہ جات کے تحفظ اور بچوں کے سرپرستوں کے تقرر کیلئے وصیت کا اندراج ضروری ہے:
DIFC ولز سروس سینٹر (دبئی)
- قانونی نظام: DIFC عدالتوں کے تحت انگلش کامن لا (Common Law) پر مبنی فریم ورک۔
- دائرہ کار: یو اے ای کے اندرونی اور دنیا بھر کے بین الاقوامی اثاثے، شیئرز اور بینک اکاؤنٹس۔
- نفاذ: براہ راست ڈیجیٹل احکامات جو دبئی اور یو اے ای کی تمام عدالتوں میں قابلِ نفاذ ہیں۔
- رجسٹریشن فیس: 10,000 سے 15,500 درہم سنگل یا مرر ول کیلئے۔
ابوظہبی سول فیملی کورٹ وصیت رجسٹری (ADJD)
- قانونی نظام: فیڈرل لاء 41/2022 کے تحت دو لسانی سول لا عدالت۔
- دائرہ کار: ابوظہبی اور ریاست بھر میں موجود تمام جائیدادیں اور اثاثے۔
- کم لاگت: انتہائی مناسب سرکاری عدالتی فیس (تقریباً 950 سے 1,500 درہم)۔
- فوری کارروائی: 24 سے 48 گھنٹوں میں ویڈیو کال پر آن لائن رجسٹریشن۔
4. آبائی ملک کے قانون کے اطلاق کا حق (Opt-Out Declarations)
قانون کے تحت غیر مسلم شہریوں کو یہ قانونی حق حاصل ہے کہ وہ یو اے ای سول قانون کے بجائے اپنے آبائی وطن کا قانون لاگو کروا سکتے ہیں:
- قانونی اعلامیہ پر دستخط: وصیت کنندہ نوٹری پبلک کے روبرو اعلامیہ دیتا ہے یا DIFC/ابوظہبی وصیت میں اس کی شق درج کرتا ہے۔
- آبائی ملک کے قانون کی تصدیق: ورثاء اپنے ملک کے وراثتی قانون کی قانونی رائے اور عربی ترجمہ عدالت میں پیش کرتے ہیں۔
- پبلک پالیسی کی حد: بیرونی قانون تب تک مکمل نافذ العمل ہوگا جب تک وہ اماراتی پبلک پالیسی سے متصادم نہ ہو۔
5. بینک اکاؤنٹس کا انجماد، جوائنٹ اکاؤنٹس اور سینٹرل بینک ضوابط
وفات کے بعد بینک اکاؤنٹس کے قانونی ضوابط درج ذیل ہیں:
- اکاؤنٹس کا خودکار انجماد: سینٹرل بینک کے احکامات کے تحت وفات کی سرکاری اطلاع ملتے ہی متوفی کے انفرادی اکاؤنٹس کو فوری طور پر منجمد کر دیا جاتا ہے۔
- جوائنٹ بینک اکاؤنٹس: کمرشل لاء 50/2022 کے تحت جوائنٹ اکاؤنٹ ہولڈر اپنا آدھا حصہ (50%) نکال سکتا ہے جبکہ متوفی کا حصہ عدالتی فیصلے تک منجمد رہتا ہے۔
- رجسٹرڈ وصیت سے فوری بحالی: رجسٹرڈ وصیت کی موجودگی میں سول فیملی کورٹ 4 سے 8 ہفتوں میں ایگزیکیوشن آرڈر جاری کرتی ہے جس سے فنڈز فوری وارثین کو مل جاتے ہیں۔
6. موازنہ جدول: سول قانون، رجسٹرڈ وصیت اور روایتی شریعت
7. ایک کروڑ درہم کی جائیداد کی تقسیم کا تصویری ماڈل
درج ذیل چارٹ میں ایک کروڑ (10 ملین) درہم کی جائیداد (دبئی ولا اور بینک اکاؤنٹس) کی مرر ول بمقابلہ بغیر وصیت تقسیم کا تقابل دکھایا گیا ہے:
10 ملین درہم کی جائیداد کی تقسیم کا ماڈل (بیوی + 1 بیٹا + 1 بیٹی)
8. یو اے ای میں وصیت کی رجسٹریشن اور نفاذ کے 6 مراحل
وصیت کی تیاری اور عدالتی نفاذ کے 6 بنیادی مراحل:
اثاثہ جات کا آڈٹ اور جائزہ
وکیل کے ساتھ یو اے ای پراپرٹی، اکاؤنٹس، شیئرز اور بین الاقوامی اثاثوں کی فہرست تیار کریں۔
دو لسانی وصیت اور سرپرستی کے دستاویزات
مرر ول کا قانونی ڈرافٹ تیار کریں اور نابالغ بچوں کے سرپرست نامزد کریں۔
ویڈیو کال پر آن لائن رجسٹریشن
DIFC وصیت افسر یا ابوظہبی جج کے روبرو آن لائن ویڈیو سیشن میں ڈیجیٹل دستخط کریں۔
عدالتی والٹ میں ڈیجیٹل اندراج
وصیت کو سرکاری عدالتی ریکارڈ میں محفوظ کر کے مصدقہ کاپیاں ایگزیکیوٹرز کو دی جاتی ہیں۔
فوری پروبیٹ کی عدالتی درخواست
ویسٹاداک کی ٹیم 5 ورکنگ دنوں میں سول کورٹ میں پروبیٹ اور ایگزیکیوشن کی درخواست دائر کرتی ہے۔
بینک فنڈز کی منتقلی اور پراپرٹی ٹرانسفر
عدالتی حکم کے ذریعے اکاؤنٹس غیر منجمد کروا کر دبئی لینڈ ڈپارٹمنٹ میں جائیداد منتقل کروائیں۔
9. نابالغ بچوں کی قانونی سرپرستی اور عارضی سرپرستوں کا تقرر
21 سال سے کم عمر بچوں کی سرپرستی اور تحویل غیر مسلم والدین کیلئے سب سے اہم نکتہ ہے:
- زندہ والدین کا خودکار حق: قانون کے مطابق ایک والد یا والدہ کی وفات پر زندہ پارٹنر کو بچوں کی مکمل قانونی و مالی سرپرستی خودکار طور پر حاصل رہتی ہے۔
- دونوں والدین کی بیک وقت وفات اور عارضی سرپرست: ناگہانی حادثے کی صورت میں وصیت میں نامزد یو اے ای میں مقیم عارضی سرپرست چند گھنٹوں میں بچوں کی تحویل حاصل کر سکتے ہیں جس سے بچے حکومتی فلاحی مرکز جانے سے محفوظ رہتے ہیں۔
- مستقل سرپرست: والدین اپنے آبائی وطن میں مقیم دادا دادی یا قریبی عزیزوں کو مستقل سرپرست مقرر کر سکتے ہیں۔
10. اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) اور ماہرین کی قانونی ایڈوائزری
اگر میں 2026 میں وصیت کے بغیر فوت ہو جاؤں تو میری دبئی پراپرٹی کا کیا بنے گا؟
سول لاء 41/2022 کے تحت 50% پراپرٹی زندہ بیوی/شوہر کو جائے گی اور باقی 50% تمام بچوں میں برابر تقسیم ہوگی۔ اگر آپ 100% جائیداد صرف بیوی کے نام کرنا چاہتے ہیں تو وصیت لازمی ہے۔
کیا پاکستان یا برطانیہ میں بنی وصیت یو اے ای میں قابل قبول ہے؟
غیر ملکی وصیت تسلیم ہوتی ہے لیکن سفارتخانے کی تصدیق اور عدالتی کارروائی میں 6 سے 12 ماہ لگتے ہیں، جبکہ مقامی DIFC یا ابوظہبی وصیت چند ہفتوں میں نافذ ہو جاتی ہے۔
کیا غیر رہائشی افراد امارات آئے بغیر آن لائن وصیت رجسٹر کروا سکتے ہیں؟
جی ہاں، DIFC اور ابوظہبی عدالتیں 100% ریموٹ ویڈیو تصدیق کی سہولت دیتی ہیں جس کے ذریعے بیرون ملک مقیم خریدار اپنے ملک سے ہی وصیت رجسٹر کروا سکتے ہیں۔
کیا یو اے ای میں وراثت یا جائیداد پر کوئی وراثتی ٹیکس (Inheritance Tax) ہے؟
متحدہ عرب امارات میں وراثت، کیپیٹل گینز یا جائیداد کی منتقلی پر زیرو فیصد (0%) ٹیکس ہے، صرف لینڈ ڈپارٹمنٹ کی معمولی انتظامی فیس (0.125%) لاگو ہوتی ہے۔
سنگل ول اور مرر ول (Mirror Will) میں کیا بنیادی فرق ہے؟
سنگل ول ایک فرد کے ذاتی اثاثوں کیلئے ہوتی ہے جبکہ مرر ول میاں بیوی کے درمیان دوطرفہ وصیت ہوتی ہے جس میں سب کچھ زندہ پارٹنر کو اور بعد ازاں بچوں کو منتقل ہوتا ہے۔
ڈاکٹر سلیم المنصوری
سینئر قانونی مشیر اور سربراہ شعبہ ترکہ و وصایا ویسٹاداک۔ DIFC کورٹس اور ابوظہبی نان مسلم سول فیملی کورٹ کے مصدقہ پریکٹیشنر۔
اپنے خاندان اور اثاثوں کو یو اے ای میں رجسٹرڈ وصیت کے ذریعے محفوظ بنائیں
ویسٹاداک DIFC اور ابوظہبی سول کورٹ کی باضابطہ وصیت، سرپرستی کے دستاویزات اور فوری عدالتی نفاذ کی مکمل قانونی خدمات فراہم کرتا ہے۔
وصیت و وراثت وکیل سے مشاورتی سیشن بک کریں